Maarif-ul-Quran - Al-Hijr : 90
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ
ثُلَّةٌ : ایک بڑا گروہ ہوگا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : پہلوں میں سے
انبوہ ہے پہلو میں سے
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت ہوجائے جس کا زمانہ بہت مختصر ہے، اس کے علاوہ لفظہ ثلہ میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ یہ ثلہ آخرین تعداد اولین سے بڑھ جائے گا۔
اور اگر دوسری تفسیر مراد لی جائے کہ اولین و آخرین دونوں اسی امت کے مراد ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے بغوی نے اور حضرت ابوبکرہ سے مسدد، طبرانی اور ابن مردویہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہما من امتی یعنی یہ اولین و آخرین میری امت ہی کے دو طبقے ہیں، اس معنی کے لحاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ سابقین اولین صحابہ وتابعین وغیرہ جیسے حضرات سے بھی یہ امت آخر تک بالکل محروم نہ ہوگی اگرچہ آخری دور میں ایسے لوگ کم ہوں گے اور مومنین و متقین و اولیاء اللہ تو اس پوری امت کے اول و آخر میں بھاری تعداد میں رہیں گے اور امت محمدیہ کا کوئی دور کوئی طبقہ اصحاب الیمین سے خالی نہ رہے گا اس کی شہادت اس حدیث سے بھی ملتی ہے جو صحیح بخاری و مسلم میں حضرت معاویہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور ہزاروں مخالفتوں کے نرغے میں بھی وہ اپنا رشد و ہدایت کا کام کرتی رہے گی، اس کو کسی کی مخالفت نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہونے تک یہ جماعت اپنے کام میں لگی رہے گی۔
Top