Asrar-ut-Tanzil - Al-Baqara : 26
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ
اَفَتَطْمَعُوْنَ : کیا پھر تم توقع رکھتے ہو اَنْ : کہ يُؤْمِنُوْا : مان لیں گے لَكُمْ : تمہاری لئے وَقَدْ کَانَ : اور تھا فَرِیْقٌ : ایک فریق مِنْهُمْ : ان سے يَسْمَعُوْنَ : وہ سنتے تھے کَلَامَ اللہِ : اللہ کا کلام ثُمَّ : پھر يُحَرِّفُوْنَهُ : وہ بدل ڈالتے ہیں اس کو مِنْ بَعْدِ : بعد مَا : جو عَقَلُوْهُ : انہوں نے سمجھ لیا وَهُمْ : اور وہ يَعْلَمُوْنَ : جانتے ہیں
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم ایک ہی قسم کے کھانے پہ ہرگز نہ رہیں گے پس اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کیجئے کہ ہمیں زمین کی پیداوار عطا کرے جیسے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز تو انہوں نے فرمایا کیا تم اعلیٰ نعمت کو کمتر چیزوں سے بدلنا چاہتے ہو۔ کسی شہر میں اترو تو یقینا وہاں تمہیں تمہاری مطلوبہ چیزیں مل جائیں جائیں کی اور ان پر ذلت اور فقیری مسلط کردی گئی اور غضب الٰہی کے مستحق ٹھہرے یہ اس لئے کہ وہ احکام الٰہی کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناروا قتل کرتے تھے (اور ) اس لئے کہ نافرمانی کرتے اور حد سے نکل جاتے تھے
Top