Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Waaqia : 45
اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ
اِنَّهُمْ كَانُوْا : کیونکہ وہ تھے قَبْلَ ذٰلِكَ : اس سے پہلے مُتْرَفِيْنَ : نعمتوں میں پہلے ہوئے
یہ لوگ اس سے پہلے عیش نعیم میں پڑے ہوئے تھے
(45۔ 53) وہ لوگ دنیا میں بڑے حد سے تجاوز کرنے والے تھے یا یہ کہ بڑی خوش حالی میں رہتے تھے اور وہ بڑے بھاری گناہ پر یعنی شرک یا یہ کہ جھوٹی قسموں پر اصرار کیا کرتے تھے اور دنیا میں یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا اس کے بعد ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اے ایمان و ہدایت سے گمراہ ہونے والو اللہ تعالیٰ اور رسول اور کتاب کو جھٹلانے والو یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیو درخت زقوم سے کھانا ہوگا اور پھر اس درخت زقوم سے پیٹ بھرنا ہوگا یہ درخت دوزخ کی جڑ میں سے اگا ہوا ہے۔
Top