Tadabbur-e-Quran - Al-Baqara : 47
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ
يَا بَنِیْ : اے اولاد اِسْرَائِیْلَ : یعقوب اذْكُرُوْا : تم یاد کرو نِعْمَتِيَ : میری نعمت الَّتِیْ : جو اَنْعَمْتُ : میں نے بخشی عَلَيْكُمْ : تم پر وَاَنِّیْ : اور یہ کہ میں نے فَضَّلْتُكُمْ : تمہیں فضیلت دی میں نے عَلَى الْعَالَمِیْنَ : زمانہ والوں پر
اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب (ف 4) (فرشتے) کہنے لگے کیا آپ پیدا کرینگے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کرینگے اور خونریزیاں کرینگے اور ہم برابرتسبیح کرتے رہتے ہیں بحمدالله اور تقدیس کرتے رہتے ہیں آپ کی۔ (ف 5) (حق تعالیٰ نے) ارشاد فرمایا کہ میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے۔ (ف 6) (30)
4۔ یعنی وہ میرا نائب ہوگا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجرا ونفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا۔ 5۔ یہ بطور اعتراض کے نہیں کہا نہ اپنا حق جتلایا بلکہ یہ فرشتوں کی عرض معروض اظہار نیاز مندی کے واسطے تھی۔ 6۔ یعنی جو امر تمہارے نزدیک مانع تخلیق بنی آدم ہے وہی واقع میں باعث انکی تخلیق کا ہے۔
Top