Dure-Mansoor - Al-Waaqia : 39
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ
ثُلَّةٌ : ایک بڑا گروہ ہوگا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : پہلوں میں سے
ان کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا
43۔ عبد بن حمید نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین۔ (ایک بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے) یعنی بہت لوگ پہلے لوگوں میں سے اور بہت لوگ پچھلے لوگوں میں سے۔ 44۔ مسدد نے اپنی مسند میں وابن النذر والبطرانی وابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں جماعتیں اس امت میں سے ہوں گی۔ 45۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن عدی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰ خرین کے بارے میں فرمایا کہ وہ دونوں جماعتیں میری اس امت میں سے ہوں گی۔ 46۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین۔ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دنوں بڑی جماعتیں اس امت میں سے ہوں گے۔ 47۔ حسن بن سفیان وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں امید رکھتا ہوں کہ میری تابعداری کرنے والے میری امت میں سے اہل جنت کا چوتھائی ہوں گے۔ تو ہم نے تکبیر کہی پھر آپ نے فرمایا میں یہ امید رکھتا ہوں میری امت میں سے اہل جنت آدھے ہوں گے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) ثلۃ من الاولین، وثلۃ من الاٰخرین پڑھی۔ انبیاء (علیہم السلام) کی امتیوں کی تعداد 48۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے رہے جب ہم نے صبح کی تو ہم صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ نے فرمایا مجھ پر سابقہ انبیاء اور ان کی امتوں میں سے ان کی تابعداری کرنے والوں کو پیش کیا گیا پس کسی نبی کے ساتھ اس کی امت میں سے صرف تین آدمی تھے اور کسی نبی کے ساتھ ایک بھی امتی نہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم کو لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی عقلمند آدمی نہیں یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) گزرے اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل میں سے تھے۔ میں نے عرض کیا اے میرے رب ! میری امت کہاں ہے فرمایا اپنے داہنی طرف کو دیکھو میں نے دیکھا کہ افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ﷺ ! کیا تو راضی ہے میں نے عرض کیا اے میرے رب ! میں راضی ہوگیا۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ عکاشہ بن محص اسدی ؓ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں سے بنادے۔ آپ نے دعا فرمائی اے اللہ اس کو ان میں سے کردے۔ پھر دوسرا آدمی کھڑٓ ہوا اور کہا یارسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپ نے فرمایا عکاشہ تجھ سے سبقت کرگیا۔ پھر نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اگر تم طاقت رکھتے ہو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں کہ تم ستر میں سے ہوجاؤ تو ہوجاؤ۔ اگر تم عاجز رہوا اور قاصر رہو تو ٹیلوں والوں میں سے ہوجاؤ اگر تم عاجز ہوجاؤ اور قاصر رہو تو اصحاب افق سے ہوجاؤ۔ بلاشبہ میں بےبہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا کر رہے تھے پھر فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں سے آدھے ہوگے۔ تو صحابہ ؓ نے تکبیر کہی۔ پھر آپ نے آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین تلاوت فرمائی۔ اور انہوں نے آپس میں ان ستر ہزار کے بارے میں تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جادو منتر نہیں کرتے اور نہ برے شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
Top