Bayan-ul-Quran - Al-A'raaf : 68
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
فَاِذَا : پھر جب قَضَيْتُمْ : تم ادا کرچکو مَّنَاسِكَكُمْ : حج کے مراسم فَاذْكُرُوا : تو یاد کرو اللّٰهَ : اللہ كَذِكْرِكُمْ : جیسی تمہاری یاد اٰبَآءَكُمْ : اپنے باپ دادا اَوْ : یا اَشَدَّ : زیادہ ذِكْرًا : یاد فَمِنَ النَّاسِ : پس۔ سے۔ آدمی مَنْ : جو يَّقُوْلُ : کہتا ہے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اٰتِنَا : ہمیں دے فِي : میں اَلدُّنْیَا : دنیا وَمَا : اور نہیں لَهٗ : اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت مِنْ خَلَاقٍ : کچھ حصہ
اور ہم نے قوم عاد (علیہ السلام) کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو (بھیجا) (ف 3) انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں سو کیا تم نہیں ڈرتے۔ (65)
3۔ مشہور اہل نسب کے نزدیک یہی ہے کہ ہود (علیہ السلام) قوم عاد کے نسبی بھائی اور خود قوم عاد سے ہیں اور بعض قلیل دوسری قوم کا بتاتے ہیں اور اخاھم کے معنی صاحبھم لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے پھر اس کی اولاد کو بھی عاد کہنے لگے اور قدآور اور قوی الجثہ ہوتے تھے۔ زادکم فی الخلق بصطہ کا یہی معنی ہے۔
Top