Mutaliya-e-Quran - Al-Baqara : 156
اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
اِلَّا : سوائے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو تَابُوْا : جنہوں نے توبہ کی وَاَصْلَحُوْا : اور اصلاح کی وَبَيَّنُوْا : اور واضح کیا فَاُولٰٓئِكَ : پس یہی لوگ ہیں اَتُوْبُ : میں معاف کرتا ہوں عَلَيْهِمْ : انہیں وَاَنَا : اور میں التَّوَّابُ : معاف کرنے والا الرَّحِيْمُ : رحم کرنے والا
اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: "ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے"
[ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [ اِذَا : جب بھی ] [ اَصَابَتْھُمْ : پہنچتی ہے ان کو ] [ مُّصِیْبَۃٌ : کوئی مصیبت ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اِنَّا : بیشک ہم ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ہیں ] [ وَاِنَّا : اور یقینا ہم ] [ اِلَــیْہِ : اس کی طرف ہی ] [ رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے ہیں ] ترکیب : ” اَلَّذِیْنَ “ اسم موصول۔ ” اِذَا “ حرف شرط ” اَصَابَتْھُمْ “ میں ” ھُمْ “ ضمیر مفعول مقدم۔ ” مُصِیْبَۃٌ“ فاعل مؤخر۔ فعل+فاعل+مفعول جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ” قَالُوْا “ فعل ” وائو “ ضمیر بارز فاعل ” اِنَّا “ میں ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ” نَا “ ضمیر اسم۔ ” لِلّٰہِ “ جار مجرور متعلق بمحذوف جملہ اسمیہ معطوف علیہ ” وَاِنَّا “ میں ” وائو “ حرف عطف ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ” نَا “ ضمیر اس کا اسم ” رَاجِعُوْنَ “ خبر ” اِلَــیْہِ “ رَاجِعُوْنَسے متعلق ۔ یہ جملہ اسمیہ ہو کر معطوف۔ معطوف+معطوف علیہ مقولہ ” قَالُوْا “ کا ۔ ” قَالُوْا “ فعل+فاعل +مقولہ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جزا۔ شرط+جزا مل کر صلہ موصول ” الَّذِیْنَ “ کا ۔ موصول+صلہ صفت ” الصَّابِرِیْنَ “ کا۔ موصوف+صفت مفعول ” بَشِّرْ “ کا۔ ” بَشِّرْ “ فعل +فاعل +مفعول مل کر جملہ فعلیہ ہو کر عطف ہے ” وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ “ پر۔ ” لَـنَــبْلُوَنَّــکُمْ “ اپنے معطوف سے مل کر جواب قسم ہے فعل محذوف قسم کا۔ فعل قسم محذوف+جواب قسم جملہ قسمیہ ہے۔
Top