Siraj-ul-Bayan - Al-An'aam : 146
وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ
وَلَوْ نَزَّلْنَا : اور اگر ہم اتاریں عَلَيْكَ : تم پر كِتٰبًا : کچھ لکھا ہوا فِيْ : میں قِرْطَاسٍ : کاغذ فَلَمَسُوْهُ : پھر اسے چھو لیں بِاَيْدِيْهِمْ : اپنے ہاتھوں سے لَقَالَ : البتہ کہیں گے الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) اِنْ هٰذَآ : نہیں یہ اِلَّا : مگر سِحْرٌ : جادو مُّبِيْنٌ : کھلا
اور یہود پر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کیا ، اور گائے اور بکری میں سے ان کی چربی حرام کی ، مگر جس قدر ان کی پشت پر لگی ہو ‘ یا انتڑیوں میں ‘ یا ہڈی کے ساتھ ملی ہو ، اور یہ ہم نے انکی شرارت کے بدلے میں انکو سزا دی تھی اور ہم سچے ہیں (ف 1) ۔
یہودیوں کی دشوار پسندی کا نتیجہ : (ف 1) یہودیوں کی عادت تھی کہ وہ از خود بہت سی چیزیں ایجاد کرلیتے اور تقشدو زہد کے لئے بہت سی چیزوں کو ممنوع قرار دے لیتے ، اللہ تعالیٰ نے جب ان کے غلو کو دیکھا تو بطور تعزیر کے واقعی انکی منع کردہ چیزوں کو ممنوع قرار دے دیا ، تاکہ انہیں اپنی بیہودگی کا احساس ہو اور معلوم ہوا کہ اللہ کے دین کو مشکل بنانے میں خود کسی حد تک وہ مشکلات میں مبتلا ہوجائے گا ۔
Top