بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 91
سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ع﴿91﴾
- سَتَجِدُوْنَاب تم پاؤ گے
- اٰخَرِيْنَاور لوگ
- يُرِيْدُوْنَوہ چاہتے ہیں
- اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْکہ تم سے امن میں رہیں
- وَاور
- يَاْمَنُوْاامن میں رہیں
- قَوْمَھُمْاپنی قوم
- كُلَّمَاجب کبھی
- رُدُّوْٓالوٹائے (بلائے جاتے ہیں)
- اِلَى الْفِتْنَةِفتنہ کی طرف
- اُرْكِسُوْاپلٹ جاتے ہیں
- فِيْھَااس میں
- فَاِنْپس اگر
- لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْتم سے کنارہ کشی نہ کریں
- وَيُلْقُوْٓااور (نہ) ڈالیں وہ
- اِلَيْكُمُتمہاری طرف
- السَّلَمَصلح
- وَيَكُفُّوْٓااور روکیں
- اَيْدِيَھُمْاپنے ہاتھ
- فَخُذُوْھُمْتو انہیں پکڑو
- وَاقْتُلُوْھُمْاور انہیں قتل کرو
- حَيْثُجہاں کہیں
- ثَقِفْتُمُوْھُمْتم انہیں پاؤ
- وَاُولٰٓئِكُمْاور یہی لوگ
- جَعَلْنَاہم نے دی
- لَكُمْتمہارے لیے
- عَلَيْهِمْان پر
- سُلْطٰنًاسند (حجت)
- مُّبِيْنًاکھلی
Translation · Baseerat-e-Quran
ایک اور قسم کے منافقین وہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی نہ لڑیں اور اپنی قوم سے بھی نہ لڑیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی شرارت کا موقع پائیں گے تو وہ باز نہیں رہیں گے۔ پھر اگر وہ تم سے فساد کریں اور صلح نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو جہاں پاؤ پکڑو اور قتل کر ڈالو اور ان کے خلاف (ان اقدامات کی) ہماری طرف سے کھلی اجازت ہے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
آیت نمبر 91
لغات القرآن : اخرین، دوسرے۔ یا منوکم، تم سے امن میں رہیں۔ لم یعتزلوا، الگ نہ ہوں۔ سلطان مبین، کھلا اختیار ہے۔
تشریح : منافقین کی تین قسموں کا بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ چوتھی قسم کی نشان دہی فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر امن چاہتے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف شرارت اور فتنہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ چھپ کر بھی وار کرتے ہیں اور کھلم کھلا بھی جیسا موقع ہو۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئیں اور صلح نہ کریں تو پھر مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اس فتنے کا سر کچلنے کے لئے جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں ان کو پکڑا جائے یا قتل کردیا جائے۔ کیونکہ دلیل سے ان کا مسلمان نہ ہونا چابت ہوگیا اسی لئے ان کا حکم عام مرتد کفار کی طرف سے ہے۔