Tafseer-e-Baghwi - Al-Waaqia : 38
لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠   ۧ
لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ : دائیں ہاتھ والوں کے لیے
(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر
37 ۔” عربا “ حمزہ اور اسماعیل نے نفع اور ابوبکر رحمہما اللہ سے پڑھا ہے ” عربا “ راء کے سکون کے ساتھ باقی حضرات نے اس کو پیش کے ساتھ پڑھا اور وہ عروب کی جمع ہے۔ یعنی عشق کرنے والیاں اپنے خاوندوں کی محبوب، حسن اور مجاہد اور قتادہ اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ نے فرمایا ہے اور والبی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور عکرمہ نے ان سے روایت کیا ہے ” ملقۃ “ دل لبھانے والیاں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ناز کرنے والیاں۔ اسامہ نے اپنے والد سے کہا ہے عربا عمدہ کلام والیاں ” اترابا “ عمر میں برابر ایک عمر پر۔ آیت عرباً اتراباً کی تفسیر حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے، بےریش ، سفید گھنگھریالے بالوں والے، سرمگیں آنکھوں والے ، تینتیس 33 سال کے آدم (علیہ السلام) کی خلقت پر اس کی لمبائی 60 ساٹھ گز میں ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ادنیٰ جنتی کے اسی 80 ہزار خادم اور بہتر 72 بیویاں ہوں گی اور اس کے لئے موتیوں، زمرد اور یاقوت کا گنبد بنایا جائے گا۔ جیسا کہ جابیہ سے صنعاء تک کا فاصلہ ہے اور اس سند سے نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے چہرے کی طرف اس کے رخساروں میں دیکھا جائے گا وہ شیشہ سے زیادہ صاف ہوگا اور بیشک ادنیٰ موتی اس پر مشرق و مغرب کے درمیان کو روشن کردے گا اور بیشک اس پر ستر کپڑے ہوں گے اس سے نگاہ پار ہوجائے گی حتیٰ کہ اس کی پنڈلی کا گودہ ان کے نیچے سے دیکھا جائے گا اور اسی سند سے نبی کریم ﷺ سے ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جو شخص چھوٹا یا بڑا اہل جنت میں سے مرجائے وہ تیس سال کے جنت میں اٹھائے جائیں گے اس پر کبھی زیادہ نہ ہوں گے اور اسی طرح اہل جہنم ہیں اور اسی سند سے نبی کریم ﷺ سے ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک ان پر تیجان ہوں گی۔ بیشک اس میں ادنیٰ موتی مشرق ومغرب کے درمیان کو روشن کردے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ادنیٰ مرتبہ کا جنتی اور ان سے کم کوئی نہ ہوگا اس پر صبح وشام دس ہزار خادم آئے جائیں گے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ عمدہ بات ہوگی جو اس کے ساتھی کے پاس نہ ہوگی۔
Top