Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Baghwi - Al-Baqara : 248
وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ ۧ
وَقَالَ
: اور کہا
لَهُمْ
: انہیں
نَبِيُّهُمْ
: ان کا نبی
اِنَّ
: بیشک
اٰيَةَ
: نشانی
مُلْكِهٖٓ
: اس کی حکومت
اَنْ
: کہ
يَّاْتِيَكُمُ
: آئے گا تمہارے پاس
التَّابُوْتُ
: تابوت
فِيْهِ
: اس میں
سَكِيْنَةٌ
: سامان تسکیں
مِّنْ
: سے
رَّبِّكُمْ
: تمہارا رب
وَبَقِيَّةٌ
: اور بچی ہوئی
مِّمَّا
: اس سے جو
تَرَكَ
: چھوڑا
اٰلُ مُوْسٰى
: آل موسیٰ
وَ
: اور
اٰلُ ھٰرُوْنَ
: آل ہارون
تَحْمِلُهُ
: اٹھائیں گے اسے
الْمَلٰٓئِكَةُ
: فرشتے
اِنَّ
: بیشک
فِيْ ذٰلِكَ
: اس میں
لَاٰيَةً
: نشانی
لَّكُمْ
: تمہارے لیے
اِنْ
: اگر
كُنْتُمْ
: تم
مُّؤْمِنِيْنَ
: ایمان والے
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
(تفسیر) 248۔: تابوت کا واقعہ : (آیت)” وقال لھم نبیھم ان ایۃ ملکہ ان یتیکم التابوت “۔ اور تابوت (صندوق) کا قصہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تابوت نازل کیا جس میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی صورتیں تھیں اور یہ شمشاد (درخت) کی لکڑی کا تھا تین گز اور دو گز (ذراع سے مراد عربی گز ہے جو قریبا ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے پس وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس رہا) یہاں تک کہ حضرت آدم (علیہ السلام) فوت ہوگئے ، اس کے بعد حضرت شیث (علیہ السلام) کے پاس تھا پھر اولاد آدم کو وراثۃ منتقل ہوا ۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، پھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس تھا ، اس لیے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس تھا ، پھر بنی اسرائیل میں رہا ، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس میں کتاب تورات اور اپنا سامان رکھتے تھے ، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوگئے پھر انبیاء کرام (علیہم السلام) بنواسرائیل یکے بعد دیگرے لیتے آئے ، یہاں تک کہ اشمویل (علیہ السلام) کو پہنچا اور اس میں وہ کچھ تھا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا (آیت)” فیہ سکینۃ من ربکم “۔ سکینہ کے متعلق علماء کی آرائ : سکینہ میں علمائے کرام نے اختلاف کیا کہ وہ کیا چیز تھی ؟ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک سخت اور تیز چلنے والی خوشبودار ہوا تھی اس کے دو سر تھے اس کا انسان کی طرح چہرہ تھا ۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ سکینہ بلی کے مشابہ ایک چیز تھی اس کا بلی کا طرح سر تھا اور اس کی دم بھی بلی کی دم کی طرح تھی اور اس کے دو پر تھے ، بعض نے کہا اس کی دو آنکھیں تھیں جن میں شعاع تھی اور دو پر تھے جو کہ زمرد اور زبرجد کے مثل تھے ، لوگ جب اس سے آواز سنتے تو نصرت الہیہ کا یقین کرلیتے اور بنی اسرائیل جب نکلتے تو اس صندوق کو اپنے آگے رکھتے جب تابوت (صندوق) چلتا تو بنی اسرائیل بھی چل پڑتے جب صندوق ٹھہر جاتا یہ بھی ٹھہر جاتے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سکینہ جنت سے لایا ہوا تھال تھا ، اس میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کے دل دھوئے جاتے تھے ۔ وہب بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ سکینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روح تھا جب لوگوں کا کسی شی میں اختلاف ہوتا تو یہ بولتا اور ان کی مراد بیان کرتا ، عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ یہ وہ آیات تھیں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نشانیاں) جن کو وہ پہچانتے اور ان سے سکون پاتے ۔ حضرت قتادہ (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ سکینہ ” بروزن فعیلہ “ سکون سے ہے ، یعنی تمہارے رب کی طرف سے اطمینان و سکون پس جس جگہ بھی صندوق ہوتا وہاں بنواسرائیل کو اطمینان و سکون ہوتا ” وبقیۃ مما ترک آل موسیٰ وآل ہارون “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) جو کچھ خود چھوڑ گئے ۔ تابوت میں اشیاء تھیں : اس میں دو تختیاں تورات کی تھیں اور ان تختیوں کے ٹکڑے تھے جو ٹوٹ گئی تھیں ، اس میں عصاء موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نعلین شریف تھی ، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ تھا اور ان کا عصا مبارک اور ” من “ کا ایک قفیر (یہ ایک پیمانہ تھا جو بنو اسرائیل پر اتراتا تھا) یہ تابوت بنو اسرائیل کے پاس تھا ، بنی اسرائیل جب کسی معاملہ میں اختلاف کرتے یہ صندوق ان کے درمیان فیصلہ کرتا تھا اور بنی اسرائیل جب کسی قتال پر جاتے تو اس صندوق کو آگے رکھتے اور اس کی برکت سے اپنے دشمن پر فتح کی طلب کرتے ۔ قوم عمالقہ کا تابوت پر قبضہ : جب بنی اسرائیل نے نافرمانی کی اور فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قوم عمالقہ کو مسلط کردیا اور وہ تابوت پر غالب آگئے اس کا سبب یوں ہوا کہ عیلی نام کا ایک عالم جس نے حضرت اشمویل (علیہ السلام) کی تربیت کی تھی کے دو جوان بیٹے تھے عیلی بنو اسرائیل کا بڑا عالم اور صاحب قربان تھا ۔ اس کے بیٹوں نے قربانیوں میں کچھ ایسی چیز پیدا کردی جو پہلے نہ تھی اور یہ اس طرح کہ عیلی کی طرف سے قربانی لٹکانے کے لیے دو کنڈیاں تھیں جس کے ساتھ لوگ قربانیاں ٹانگتے ، ان دو کنڈیوں سے جو آمدنی ہوتی وہ اس کاہن کے لیے ہوتی جو وہ لٹکاتا تھا ، عیلی کے بیٹوں نے کئی کنڈیاں لگا دیں عورتیں بیت المقدس میں نماز پڑھنے آتیں تو عیلی کے بیٹے ان سے چمٹتے پس اللہ تعالیٰ نے حضرت شمویل (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ عیلی کے پاس جا کر کہو کہ تجھے تیری اولاد کی محبت اس بات سے روکاٹ کہ تو بیٹوں کو ان برے کاموں سے روکے جو انہوں نے قربانیوں کے سلسلہ میں اور میرے حریم قدس میں شروع کر رکھے ہیں اور یہ کہ دونوں میری نافرمانی کرتے ہیں لہذا میں ضرور بالضرور تجھ سے تیرا عہدہ کہانت چھین لوں گا اور تیری اولاد سے بھی اور میں تجھے اور تیری اولاد کو ہلاک کر دوں گا ، اشمویل (علیہ السلام) نے عیلی کو خبر دی ، پس عیلی سخت گھبرا گیا اور ان کے آس پاس کے دشمنوں نے ان پر حملہ کردیا، پس عیلی نے بیٹوں کو حکم دیا کہ لوگوں کو لے کر مقابلہ کے لیے نکلیں اور اس دشمن سے لڑیں ۔ پس عیلی کے دونوں بیٹے نکلے اور اپنے ساتھ صندوق بھی لے گئے ، پس جب لڑائی کے لیے تیار ہوئے عیلی ادھر (فتح کی) خبر سننے کی امید لیے بیٹھا تھا کہ لشکر نے کیا کیا ، اتنے میں آدمی آیا اور عیلی کرسی پر بیٹھا تھا اس آدمی نے خبر دی کہ لوگ شکست کھا گئے اور تیرے بیٹے قتل ہوگئے ، عیلی نے پوچھا تابوت کا کیا بنا ؟ (خبر دینے والے) آدمی نے کہا اسے دشمن لے گیا ، عیلی نے چیخ ماری ، کرسی سے پیچھے کی طرف گرا اور مرگیا ، بنی اسرائیل کا معاملہ ختم ہوگیا اور وہ تتربتر ہوگئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ، بنی اسرائیل نے طالوت کے بادشاہ ہونے پر دلیل مانگی ان کے نبی (علیہ السلام) نے فرمایا طالوت کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت آئے گا ۔ تابوت کا قصہ : اور تابوت (صندوق) کا قصہ یوں ہوا کہ جو لوگ اس صندوق کو لے گئے تھے وہ اسے فلسطین کی کسی بستی میں لے گئے بستی کا نام ازدود تھا ، تابوت کو انہوں نے بت کے کمرہ میں بڑے بت کے نیچے رکھا ، دوسرے دن دیکھا کہ بت تابوت کے نیچے پڑا ہے، پس انہوں نے بت کو لیا اور تابوت کے اوپر رکھا اور بت کے قدموں کو تابوت کے اوپر میخوں سے جڑ دیا ، صبح کو دیکھا کہ بت کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہیں اور تابوت کے نیچے پڑا ہوا ہے اور باقی بت بھی اوندھے منہ گرے ہوئے ہیں ، انہوں نے اس تابوت کو بت کدہ سے نکالا اور شہر کی ایک جانب رکھا ، اس طرف کے لوگوں کو گردن کی بیماری نے آدبوچا ، اس طرف کے کی اکثریت موت کا لقمہ بن گئی ، پس بعض کو بعض نے کہا : کیا تم اس بات کو جانتے نہیں ہو کہ کہ بیشک بنی اسرائیل کے معبود کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، لہذا اس تابوت کو فلاں بستی کی طرف لے جاؤ تو اللہ تعالیٰ نے ان بستی والوں کی طرف چوہے بھیج دیئے ۔ پس چوہے رات کے وقت آدمی کے پاس آتے ، صبح کو وہ آدمی مرا ہوا ہوتا اور چوہے اس کی انتڑیاں وغیرہ کھاچکے ہوتے تو انہوں نے اس تابوت کو جنگل کی طرف نکالا اور وہاں گندگی کی جگہ پر دفن کردیا ، پھر ہوا یہ کہ جو وہاں قضا حاجت کے لیے جاتا اسے بواسیر اور قولنج کی بیماری لگ جاتی پس وہ حیران ہوگئے تو ان کو ایک عورت جو ان کے پاس بنی اسرائیل کے قیدیوں میں تھی اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی اولاد سے تھی اس نے کہا جب تک یہ تابوت تمہارے پاس رہا تم مصیبتوں میں گرفتار رہو گے لہذا اسے اپنے سے باہر نکال دو ، چناچہ اس عورت کے مشورہ کے مطابق وہ گاڑی لائے اور تابوت کو اس پر رکھا اور دو بیلوں کے اوپر اس گاڑی کو جکڑ دیا اور ان بیلوں کے پہلوؤں کو خوب مضبوط کیا ، بیل چلنا شروع ہوگئے ، اللہ تعالیٰ نے ان دو بیلوں پر چار فرشتے مقرر کیے جو ان کو ہانکتے ۔ وہ دونوں بیل متوجہ ہوئے اور بنی اسرائیل کی زمین پر آکھڑے ہوئے ، ان بیلوں نے گلے پڑے جوے کو توڑا رسیوں کو کاٹا تابوت بنی اسرائیل کی زمین پر جہاں بنی اسرائیل کی کھیتی کٹی پڑی تھی (یعنی کھلیان) میں رکھا اور واپس ہوگئے بنی اسرائیل نے جب اچانک تابوت کو دیکھا تو حیران رہ گئے ، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی اور حمد وثناء کی ۔ (آیت)” تحملہ الملائکۃ “۔ فرشتے اس کو ہانکتے تھے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں فرشتے تابوت کو آسمان اور زمین کے درمیان اٹھا کر لائے اور بنی اسرائیل اس کو دیکھ رہے تھے یہاں تک کہ فرشتوں نے طالوت کے پاس تابوت لا کر رکھ دیا ۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ تابوت فرشتوں کے پاس آسمان پر تھا ، جب طالوت بادشاہ بنا تو فرشتے تابوت اٹھا کر لائے اور ان کے درمیان لا کر رکھ دیا ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں بلکہ تابوت مقام تیہ میں تھا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تابوت یوشع بن نون (علیہ السلام) کے پاس چھوڑ گئے تھے ، چناچہ تابوت وہاں رہا ، پس تابوت کو فرشتوں نے اٹھایا اور طالوت کے گھر لا کر رکھ دیا ، پس بنی اسرائیل نے طالوت کی شاہی کا اقرار کرلیا ۔ (آیت)” ان فی ذالک لایۃ “۔ البتہ عبرت ہے (آیت)” لکم ان کنتم مؤمنین “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بیشک تابوت اور عصائے موسیٰ (علیہ السلام) بحیرہ طبریہ میں ہے اور قیامت سے پہلے یہ دونوں نکلیں گے ۔
Top