Mutaliya-e-Quran - Al-Baqara : 62
وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ
وَاِذْ : اور جب فَرَقْنَا : ہم نے پھاڑ دیا بِكُمُ : تمہارے لیے الْبَحْرَ : دریا فَاَنْجَيْنَاكُمْ : پھر تمہیں بچا لیا وَاَغْرَقْنَا : اور ہم نے ڈبو دیا آلَ فِرْعَوْنَ : آل فرعون وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : اور تم دیکھ رہے تھے
کیا (غضب ہے کہ) کہتے ہو اور لوگوں کو نیک کام کرنے کو ( نیک کام سے مراد رسول ﷺ پر ایمان لانا ہے) اور اپنی خبر نہیں لیتے حالانکہ تم تلاوت کرتے رہتے ہو کتاب کی تو پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ (ف 6) (44)
6۔ اس سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا کہ بےعمل کو واعظ بننا جائز نہیں بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بےعمل بننا جائز نہیں۔
Top