Anwar-ul-Bayan - Nooh : 13
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا
يٰٓاَيُّھَا : اے النَّاسُ : لوگ اتَّقُوْا : ڈرو رَبَّكُمُ : اپنا رب الَّذِيْ : وہ جس نے خَلَقَكُمْ : تمہیں پیدا کیا مِّنْ : سے نَّفْسٍ : جان وَّاحِدَةٍ : ایک وَّخَلَقَ : اور پیدا کیا مِنْھَا : اس سے زَوْجَهَا : جوڑا اس کا وَبَثَّ : اور پھیلائے مِنْهُمَا : دونوں سے رِجَالًا : مرد (جمع) كَثِيْرًا : بہت وَّنِسَآءً : اور عورتیں وَاتَّقُوا : اور ڈرو اللّٰهَ : اللہ الَّذِيْ : وہ جو تَسَآءَلُوْنَ : آپس میں مانگتے ہو بِهٖ : اس سے (اس کے نام پر) وَالْاَرْحَامَ : اور رشتے اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ كَانَ : ہے عَلَيْكُمْ : تم پر رَقِيْبًا : نگہبان
اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔
آیت نمبر 89 قولہ تعالیٰ : ولقد صرفنا۔۔۔۔ کل مثل یعنی ہم نے اس میں ہر مثال کے ساتھ قول کی توجیہ بیان کی جس کے ساتھ اعتبار اور نظرو فکر واجب ہوتی ہے، مثلا آیات، عبرتیں، ترغیب و ترہیب، اوامرو نواہی، پہلے لوگوں کے قصص اور واقعات، جنت و دوزخ اور قیامت وغیرہ۔ فابی اکثر الناس الا کفورا اور ان سے مراد اہل مکہ ہیں، ان کے لئے حق واضح کردیا اور ان کے لئے (اسے) کھول دیا اور انہیں مہلت دی یہاں تک کہ ان کیلئے ظاہر ہوگیا کہ یہ حق ہے، لیکن انہوں نے حق واضح اور ظاہر ہونے کے وقت سوائے کفر کے (ہر شے کا) انکار کردیا۔ مہدوی نے کہا ہے : ان کے اس قول میں قدریہ کے لئے کوئی حجت نہیں ہے۔ ابی (اس نے انکار کیا) کا لفظ نہیں بولا جاتا مگر اس کے لئے جو اسے کرنے سے انکار کرے جس پر وہ قادر ہو، کیونکہ کافر اگرچہ ایمان لانے پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے اعراض کرنے اور اپنے دل پر اس کے مہر لگائے جانے کے سبب قادر نہیں ہے، لیکن وہ وسعت اور مہلت کے وقت میں تو حق کی طلب اور باطل سے اسے ممتاز کرنے پر قادر ہے۔
Top