Tafseer-Ibne-Abbas - Az-Zumar : 23
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا
وَ : اور نُنَزِّلُ : ہم نازل کرتے ہیں مِنَ : سے الْقُرْاٰنِ : قرآن مَا : جو هُوَ شِفَآءٌ : وہ شفا وَّرَحْمَةٌ : اور رحمت لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں کے لیے وَلَا يَزِيْدُ : اور نہیں زیادہ ہوتا الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع) اِلَّا : سوائے خَسَارًا : گھاٹا
خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام یعنی قرآن حکیم نازل فرمایا کہ اس کے مضامین ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے ہیں یعنی وعدہ کامیابی رحمت و مغفرت عفو کی آیتیں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور اسی وعید عذاب کے خوف میں یہ آیات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور یہ آیات بار بار دہرائی گئی ہیں اور دوہری ہیں کہ رحمت و عذاب وعدہ وعید امر و نہی ناسخ و منسوخ یا یہ کہ مکرر ہیں۔ کہ آیات عذاب و وعید سے ان لوگوں کے بدن جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں کانپ اٹھتے ہیں اور پھر ان کے بدن آیات رحمت سے نرم ہو کر اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ قرآن بیان خداوندی ہے جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے سے اپنے دین کی ہدایت فرماتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کردے اسے کوئی اس کے دین پر لانے والا نہیں۔ شان نزول : اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ (الخ) اس آیت کریمہ کا شان نزول سورة یوسف میں ملاحظہ فرمائیں۔
Top