Tafseer-e-Baghwi - Al-A'raaf : 154
وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ
وَاخْتَارَ : اور چن لئے مُوْسٰي : موسیٰ قَوْمَهٗ : اپنی قوم سَبْعِيْنَ : ستر رَجُلًا : مرد لِّمِيْقَاتِنَا : ہمارے وعدہ کے وقت کے لیے فَلَمَّآ : پھر جب اَخَذَتْهُمُ : انہیں پکڑا ( آلیا) الرَّجْفَةُ : زلزلہ قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب لَوْ شِئْتَ : اگر تو چاہتا اَهْلَكْتَهُمْ : انہیں ہلاک کردیتا مِّنْ قَبْلُ : اس سے پہلے وَاِيَّايَ : اور مجھے اَتُهْلِكُنَا : کیا تو ہمیں ہلاک کریگا بِمَا : اس پر جو فَعَلَ : کیا السُّفَهَآءُ : بیوقوف (جمع) مِنَّا : ہم میں سے اِنْ هِىَ : یہ نہیں اِلَّا : مگر فِتْنَتُكَ : تیری آزمائش تُضِلُّ : تو گمراہ کرے بِهَا : اس سے مَنْ : جس تَشَآءُ : تو چاہے وَتَهْدِيْ : اور تو ہدایت دے مَنْ : جو۔ جس تَشَآءُ : تو چاہے اَنْتَ : تو وَلِيُّنَا : ہمارا کارساز فَاغْفِرْ : سو ہمیں بخشدے لَنَا : اور تو وَارْحَمْنَا : ہم پر رحم فرما وَاَنْتَ : اور تو خَيْرُ : بہترین الْغٰفِرِيْنَ : بخشنے والا
اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔
تفسیر 154(ولما سکت) ساکن ہوگیا (عن موسیٰ الغضب اخذ الالواح) جو انہوںں نے پھینک دی تھیں اور ان میں سے چھے حصے چلے گئے تھے۔ (وفی نسختھا) اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے تختیاں مراد ہیں۔ ان سے دوسرا نسخہ لکھا گیا اور یہی مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وفی نسختھا “ سے اور بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جو اس میں سے منسوخ کردیا گیا تھا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں جو اس میں سے باقی رہا تھا اور ابن عباس ؓ اور عمرو بن دینار (رح) فرماتے ہیں جب موسیٰ علیہ اسللام نے تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن روزہ رکھا تو وہ ان کو دو تختیوں میں لوٹا دی گئی۔” ھدی و رحمۃ “ یعنی گمرایہ سے ہدایت اور عذاب سے رحمت ہے۔ ” للذین کفروا برنھم یرھبون “ یعنی اپنے رب سے ڈرنے والے کے لئے اور ” ربھم “ میں لام تاکید کی زیادتی کے لئے ہے۔ جیسے باری تعالیٰ کا قول ” ردف لکم “ ہے اور کسائی (رح) فرماتے ہیں اگر اس کو فعل پر مقدم کیا جاتا تو اچھا وہتا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” للرئوبا تعبرون “ ہے۔ قطرب (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ” من ربھم یرھبون “ اور بعض نے کہا ہے راہبون ڈرنے والے اور بعض نے کہا ہے ” راھبون لربھم “ مراد ہیں۔ (ھدی و رحمۃ للذین ھم لربھم یرھبون)
Top