Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 49
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ : کہہ دیجیے بیشک پہلے وَالْاٰخِرِيْنَ : اور پچھلے
آپ کہہ دیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے
وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَۙ0049 لَمَجْمُوْعُوْنَ۠1ۙ۬ اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ 0050﴾ (آپ فرما دیجئے کہ بیشک اولین اور آخرین مقررہ معلوم دن کی طرف جمع کیے جائیں گے) یعنی قیامت ضرور واقع ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا جو وقت مقرر ہے اسی وقت آئے گی، سب اولین و آخرین اس وقت جمع ہوں گے اس دن بندوں کی پیشی ہوگی ایمان والوں کو جنت دی جائے گی اور اہل کفر وشرک دوزخ میں جائیں گے جہاں طرح طرح کے عذاب ہیں ان عذابوں میں سے ایک زقوم بھی ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿ ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ۠ۙ0051 لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ0052﴾ (پھر اے گمراہو جھٹلانے والو تم زقوم کے درخت سے ضرور کھاؤ گے) جو سخت کڑوا بدمزہ اور دیکھنے میں بہت بدصورت ہوگا۔ ﴿ فَمَالِـُٔوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ0053 ﴾ (باوجود یہ وہ بہت زیادہ بدمزہ ہوگا پھر بھی بھوک کی شدت کی وجہ سے اس میں سے کھاؤ گے اور تھوڑا بہت نہیں خوب پیٹ بھر کر کھاؤ گے) ﴿ فَشٰرِبُوْنَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيْمِۚ0054 فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِيْمِؕ0055 ﴾ (پھر اس زقوم کے درخت پر خوب گرم کھولتا ہوا پانی پیو گے اور یہ پانی اس طرح خوب زیادہ پیو گے جیسے پیاسے اونٹ دنیا میں پانی پیتے ہیں) ﴿ هٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّيْنِؕ0056﴾ (یہ روز جزاء میں ان کی مہمانی ہوگی)
Top