Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 51
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ
اِنَّ : بیشک فِيْ : میں ذٰلِكَ : اس لَاٰيَةً : نشانی لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان والوں کے لیے
پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو !
(56:51) ثم۔ حرف عطف ہے ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر۔ انکم : ان حرف مشبہ بالفعل۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر، بیشک تم، یہاں خطاب اہل مکہ سے ہے۔ یا خطاب عام ہے ہر گمراہ اور جھٹلانے والے سے۔ الضالون : ای الضالون عن الھدی۔ راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ضلال (باب ضرب، مضاعف) مصدر بمعنی گمراہ ہوجانا۔ بہکنا۔ راہ سے دور ہوجا پڑنا۔ گم ہونا۔ ہلاک ہونا۔ ضائع ہونا۔ المکذبون : اسم فاعل جمع مذکر۔ تکذیب (تفعیل) مصدر۔ جھٹلانے والے ۔ تکذیب کرنے والے۔ مراد مکذبون بالبعث : دوبارہ جی اٹھنے کو جھٹلانے والے۔
Top