Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Waaqia : 39
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ
ثُلَّةٌ : ایک بڑا گروہ ہوگا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : پہلوں میں سے
(یہ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں
39۔ 40۔ ترمذی 5 ؎ میں حضرت بریدہ ؓ کی حدیث ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔ حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی اور چالیس صفیں اور امتوں کی ہوں گی۔ اس حدیث سے یہ حساب تو صحیح معلوم ہوگیا کہ بہ نسبت اور امتوں کے اس امت کے جنتی لوگ دوگنے ہوں گے۔ اب جنتی لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اور سورة فاطر میں دو قسمیں فرمائی ہیں ایک تو اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جن کو نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے اور مقرب فرمایا ہے دوسرے بیچ کی راس کے لوگ جن کو سیدھے ہاتھ والے فرمایا ہے ان دونوں قسموں کے ذکر میں یہ جو فرمایا ہے مقرب لوگ پہلے لوگوں میں بہت ہوں گے اور پچھلوں میں تھوڑے اس کی تفسیر میں تابعیوں کے زمانہ سے اب تک یہ اختلاف چلا آتا ہے کہ پہلے اور پچھلے لوگوں سے اس امت کے اگلے اور پچھلے مراد ہیں یا پہلے لوگوں سے پہلی امتیں مراد ہیں اور پچھلے لوگوں سے یہ امت مراد ہے اوپر آیت ثلۃ من الاولین و قلیل من الاخرین کی جو تفسیر گزر چکی اس میں اس اختلاف کو تو رفع کردیا گیا ہے۔ رہی اس آیت کی تفسیر اس تفسیر کی بابت طبرانی میں 6 ؎ ابی بکر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس آیت میں اولین اور آخرین سے مقصود اسی امت کے لوگ ہیں۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہیں اگرچہ بعض علماء نے اس میں کلام کیا ہے لیکن صاحب مجمع الزوائد نے اس کو ثقہ لکھا ہے۔ بعض مفسروں نے اس آیت سے آیت ثلۃ من الاولین وقلیل من الاخرین کو منسوخ جو کہا ہے وہ قول صحیح نہیں ہے۔ (5 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی کم صف اھل الجنۃ ص 91 ج 2۔ ) (6 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 159 جلد 6۔ )
Top