Siraj-ul-Bayan - An-Nisaa : 59
وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا
وَلَئِنْ : اور اگر اَصَابَكُمْ : تمہیں پہنچے فَضْلٌ : کوئی فضل مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے لَيَقُوْلَنَّ : تو ضرور کہے گا كَاَنْ : گویا لَّمْ تَكُنْ : نہ تھی بَيْنَكُمْ : تمہارے درمیان وَبَيْنَهٗ : اور اس کے درمیان مَوَدَّةٌ : کوئی دوستی يّٰلَيْتَنِيْ : اے کاش میں كُنْتُ : میں ہوتا مَعَھُمْ : ان کے ساتھ فَاَفُوْزَ : تو مراد پاتا فَوْزًا : مراد عَظِيْمًا : بڑی
اور وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ، ہم انہیں باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کے لئے وہاں ستھری عورتیں ہوں گی ، اور ہم انہیں سایہ دار (ف 1) چھاؤں میں داخل کریں گے ۔
1) اہل ایمان و فلاح کا ذکر ہے کہ انہیں باغات وانہار میں جگہ دی جائے گی اور ان کے لئے گھنے سائے مہیا کئے جائیں گے ۔ یعنی وہاں نظر وقلب کی مسرت کے لئے ہر وہ چیز جو ضروری ہے ، حاصل ہوگی اور عروسان فطرت پوری طرح بن سنور کر اہل جنت حضرات کے لئے جلوہ آراء ہوں گی اور پھر وہاں سب سے بڑی مسرت یہ ہوگی کہ پاک بیویاں بھی زینت دہ آغوش ہوں گی ، یعنی دنیا میں جتنی مسرتیں اور سعادتیں ہیں وہاں سب کا حصول ہوگا اور علی وجہ الکمال کہ کسی طرح کا نقص وتکدر ان میں موجود نہ ہو ۔
Top