Mazhar-ul-Quran - Al-Baqara : 91
وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠   ۧ
وَلَتَجِدَنَّهُمْ : اور البتہ تم پاؤگے انہیں اَحْرَصَ : زیادہ حریص النَّاسِ : لوگ عَلٰى حَيَاةٍ : زندگی پر وَمِنَ : اور سے الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے اَشْرَكُوْا : شرک کیا يَوَدُّ : چاہتا ہے اَحَدُهُمْ : ان کا ہر ایک لَوْ : کاش يُعَمَّرُ : وہ عمر پائے اَلْفَ سَنَةٍ : ہزار سال وَمَا : اور نہیں هُوْ : وہ بِمُزَحْزِحِهٖ : اسے دور کرنے والا مِنَ : سے الْعَذَابِ : عذاب اَنْ : کہ يُعَمَّرَ : وہ عمر دیا جائے وَاللہُ : اور اللہ بَصِیْرٌ : دیکھنے والا بِمَا : جو وہ يَعْمَلُوْنَ : کرتے ہیں
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے اتارا ہے اس پر ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں : ” ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں جو کہ ہم پر اترا ہے “ (یعنی توریت) اور وہ لوگ اس کے سوا سب کے منکر ہیں حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے ، (اے محبوب ﷺ ان سے یہ تو) پوچھو کہ تم کس لئے خدا کے نبیوں کو اگلے زمانہ میں شہید کرتے آئے ہو اگر تم کو اپنی کتاب پر ایمان تھا
شان نزول : اس آیت میں یہود نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ ہمارا ایمان مضبوط ہے ، غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا کہ جس کا ایمان توراۃ پر مضبوط تھا اس نے انبیاء کو کیوں شہید کیا، اور بچھڑے کی پوجا کیوں کی ۔ جس وقت پہاڑ سر پر لا کر تورات کے موافق عمل کرنے کا عہد لیا گیا تھا اس وقت تمہارے بڑوں نے چپکے سے وعصینا کہا تھا پھر تمہارا ایمان توراۃ پر کیونکر مضبوط ہو سکتا ہے۔ ترمذی وابن ماجہ میں جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” ہدایت کے بعد گمراہ وہی قوم ہوتی ہے جو دین میں زبردستی کے جھگڑوں میں پڑجاوے “۔ امت محمدیہ کے علماء کو اس طرح کے جھگڑوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
Top