Mutaliya-e-Quran - Al-Baqara : 240
حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ
حٰفِظُوْا : تم حفاظت کرو عَلَي الصَّلَوٰتِ : نمازوں کی وَ : اور الصَّلٰوةِ : نماز الْوُسْطٰى : درمیانی وَ : اور قُوْمُوْا : کھڑے رہو لِلّٰهِ : اللہ کے لیے قٰنِتِيْنَ : فرمانبردار (جمع)
تم میں سے جو لوگوں وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، اُن کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں پھر اگر وہ خود نکل جائیں، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے
[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ یُـتَوَفَّوْنَ : موت دی جاتی ہے ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ وَیَذَرُوْنَ : اور وہ لوگ چھوڑتے ہیں ] [ اَزْوَاجًا : بیویوں کو ] [ وَّصِیَّۃً : (اور کر جاتے ہیں) کوئی وصیت ] [ لِّاَزْوَاجِہِمْ : اپنی بیویوں کے لیے ] [ مَّتَاعًا : (یعنی) کچھ برتنے کا سامان ] [ اِلَی الْحَوْلِ : ایک سال تک ] [ غَیْرَ اِخْرَاجٍ : نکالنے کے بغیر (گھر سے) ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ خَرَجْنَ : وہ نکلتی ہیں ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فِیْ مَا : اس میں جو ] [ فَعَلْنَ : وہ کرتی ہیں ] [ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ : اپنے بارے میں ] [ مِنْ مَّعْرُوْفٍ : بھلائی میں سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [ حَکِیْمٌ : حکمت والا ہے ] ترکیب : ” وَصِیَّـۃً “ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل ” یُوْصُوْنَ “ محذوف ہے۔ ” مَتَاعًا “ کی نصب ” وَصِیَّۃً “ کا بدل ہونے کی وجہ سے ہے۔ جبکہ ” غَیْرَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Top