Mafhoom-ul-Quran - Al-Israa : 45
قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠   ۧ
قُلْ : آپ کہ دیں لَّآ اَقُوْلُ : نہیں کہتا میں لَكُمْ : تم سے عِنْدِيْ : میرے پاس خَزَآئِنُ : خزانے اللّٰهِ : اللہ وَلَآ : اور نہیں اَعْلَمُ : میں جانتا الْغَيْبَ : غیب وَلَآ اَقُوْلُ : اور نہیں کہتا میں لَكُمْ : تم سے اِنِّىْ : کہ میں مَلَكٌ : فرشتہ اِنْ اَتَّبِعُ : میں نہیں پیروی کرتا اِلَّا : مگر مَا يُوْحٰٓى : جو وحی کیا جاتا ہے اِلَيَّ : میری طرف قُلْ : آپ کہ دیں هَلْ : کیا يَسْتَوِي : برابر ہے الْاَعْمٰى : نابینا وَالْبَصِيْرُ : اور بینا اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ : سو کیا تم غور نیں کرتے
اور جب تم قرآن سناتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں
وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ کفار کی قرآن سے بیزاری کا اصلی سبب : یہ اس تعجب کو دور فرمایا ہے کہ قرآن جیسی واضح چیز، جس میں ایک ایک بات گوناگوں اسلوبوں سے، جیسا کہ آیت 41 میں فرمایا، بیان ہوئی ہے، ان لوگوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ہے۔ اور یہ اس سے اس درجہ وحشت زدہ کیوں ہیں ؟ فرمایا کہ یہ لوگ نہ آخرت کو مانتے ہیں اور نہ آخرت کو ماننا چاہتے ہیں۔ یہ چیز ان کے دلوں پر ایک مخفی حجاب بن کر چھا گئی ہے جس کا اثر یہ ہے کہ قرآن کے انوار ان کے دلوں پر منعکس نہیں ہوپاتے۔
Top