Aasan Quran - Al-Baqara : 78
ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ
ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ : پھر تم پھرگئے مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ : اس کے بعد فَلَوْلَا : پس اگر نہ فَضْلُ اللہِ : اللہ کا فضل عَلَيْكُمْ : تم پر وَرَحْمَتُهُ : اور اس کی رحمت لَكُنْتُمْ ۔ مِنَ : تو تم تھے۔ سے الْخَاسِرِیْنَ : نقصان اٹھانے والے
لہذا تباہی ہے ان لوگوں کی جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی سی آمدنی کما لیں۔ (56) پس تباہی ہے ان لوگوں پر اس تحریر کی وجہ سے بھی جو ان کے ہاتھوں نے لکھی، اور تباہی ہے ان پر اس آمدنی کی وجہ سے بھی جو وہ کماتے ہیں۔
56: یہاں قرآن کریم نے ترتیب یہ رکھی ہے کہ پہلے ان یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے جو تورات میں جان بوجھ کر رد وبدل کرتے تھے پھر ان ان پڑھ یہودیوں کا جنہیں تورات کا علم تو تھا نہیں مگر انہیں مذکورہ بالا علماء نے ان جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا کر رکھا تھا کہ سارے یہودی اللہ کے لاڈلے ہیں اور وہ بہر صورت جنت میں جائیں گے، ان کا ساراعلم اسی قسم کے گمانوں پر مشتمل تھا ؛ چونکہ ان کے اس گمان کی بنیادی وجہ علماء کی تحریفات تھیں اس لئے آٰت نمبر 96 میں ان کی تباہی کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔
Top