Bayan-ul-Quran - Al-An'aam : 3
ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا
ذٰلِكَ : یہ مِمَّآ : اس سے جو اَوْحٰٓى : وحی کی اِلَيْكَ : تیری طرف رَبُّكَ : تیرا رب مِنَ الْحِكْمَةِ : حکمت سے وَلَا : اور نہ تَجْعَلْ : بنا مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ اِلٰهًا : معبود اٰخَرَ : کوئی اور فَتُلْقٰى : پھر تو ڈالدیا جائے فِيْ جَهَنَّمَ : جہنم میں مَلُوْمًا : ملامت زدہ مَّدْحُوْرًا : دھکیلا ہوا
اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں (بھی) اور زمین میں (بھی) وہ تمہارے پوشیدہ (احوال) کو بھی اور تمہارے ظاہر (احوال) کو بھی جانتے ہیں اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اسکو جانتے ہیں۔ (ف 2) (3)
2۔ توحید تینوں آتیوں کا مقصود مشترک ہے یعنی عبادت کے لائق وہ ہے جس میں یہ صفات ہوں کہ وہ خالق افق وآفاق کا ہے اور عالم غیب و شہادت کا ہو ارآخر کی دوآیتوں میں بعث کی خبر اور اس کے امتناع کا دفع اور محاسبہ علی الکسب پر تنبیہ بھی ہے جس سے شرک پر وعید ثابت ہوگئی اور دوسرے اجل کے علم کو اپنے ساتھ مخصوص فرمایا کیونکہ پہلے اجل کا گو قطعی علم نہ سہی مگر ظنی طور پر علامات سے معلوم ہوجاتا ہے۔
Top