مسند امام احمد - جد عکرمہ بن خالد مخزومی کی روایت۔ - حدیث نمبر 13201
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَا جَائِزَتُهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مہمان نوازی کے بارے
ابوشریح عدوی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا اور کانوں نے آپ سے سنا، آپ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرے ، صحابہ نے عرض کیا، مہمان کی عزت و تکریم اور آؤ بھگت کیا ہے؟ ١ ؎ آپ نے فرمایا: ایک دن اور ایک رات، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ٢ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٩) و ٨٥ (٦١٣٥)، والرقاق ٢٣ (٦٤٧٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٩ (٤٨)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥ (٣٧٤٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٥) (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٦)، وط/صفة النبي ١٠ (٢٢)، و مسند احمد (٤/٣١)، و (٦/٣٨٤)، وسنن الدارمی/الأطعمة ١١ (٢٠٧٨) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی کتنے دن تک اس کے لیے پرتکلف کھانا بنایا جائے۔ ٢ ؎: اس حدیث میں ضیافت اور مہمان نوازی سے متعلق اہم باتیں مذکور ہیں، مہمان کی عزت و تکریم کا یہ مطلب ہے کہ خوشی سے اس کا استقبال کیا جائے، اس کی مہمان نوازی کی جائے، پہلے دن اور رات میں اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کیا جائے، مزید اس کے بعد تین دن تک معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، اپنی زبان ذکر الٰہی، توبہ و استغفار اور کلمہ خیر کے لیے وقف رکھے یا بےفائدہ فضول باتوں سے گریز کرتے ہوئے اسے خاموش رکھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3675)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1967
Top