سنن الترمذی - نکاح کا بیان - حدیث نمبر 1136
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَعْزِلُ فَزَعَمَتْ الْيَهُودُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَذَبَتْ الْيَهُودُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ فَلَمْ يَمْنَعْهُ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ.
عزل کے بارے میں
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ١ ؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا ٢ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/عشرة النساء (في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٢٥٨٧) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎ عزل یہ ہے کہ جماع کے وقت انزال قریب ہو تو آدمی اپنا عضو تناسل شرمگاہ سے باہر نکال کر منی باہر نکال دے تاکہ عورت حاملہ نہ ہو۔ ٢ ؎: اس حدیث میں صرف اس بات کا بیان ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ عزل کے باوجود جس نفس کی اس مرد و عورت سے تخلیق اللہ کو مقصود ہوتی ہے اس کی تخلیق ہو ہی جاتی ہے، جیسا کہ ایک صحابی نے لونڈی سے عزل کیا اس کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔ اس لیے یہ «مودودۃ صغریٰ» نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الآداب (52)، صحيح أبي داود (1887)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1136
Sayyidina Jabir (RA) reported that they said, “O Messenger of Allah ﷺ We practice azi, but the Jews imagine that to be a minor killing”. He said, “The Jews lie. Indeed, if Allah intends to create someone, nothing prevents that”. [Ahmed 11288]
Top