Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1204 - 1321)
Select Hadith
1204
1205
1206
1207
1208
1209
1210
1211
1212
1213
1214
1215
1216
1217
1218
1219
1220
1221
1222
1223
1224
1225
1226
1227
1228
1229
1230
1231
1232
1233
1234
1235
1236
1237
1238
1239
1240
1241
1242
1243
1244
1245
1246
1247
1248
1249
1250
1251
1252
1253
1254
1255
1256
1257
1258
1259
1260
1261
1262
1263
1264
1265
1266
1267
1268
1269
1270
1271
1272
1273
1274
1275
1276
1277
1278
1279
1280
1281
1282
1283
1284
1285
1286
1287
1288
1289
1290
1291
1292
1293
1294
1295
1296
1297
1298
1299
1300
1301
1302
1303
1304
1305
1306
1307
1308
1309
1310
1311
1312
1313
1314
1315
1316
1317
1318
1319
1320
1321
مشکوٰۃ المصابیح - کسب اور طلب حلال کا بیان - حدیث نمبر 1324
وَعَنْ مَالِکٍ بَلَغَہ، اَنَّ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ فِی مِثْلِ مَایَکُوْنَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالطَّائِفِ وَفِی مِثْلِ مَابَیْنَ مَکَّۃَ وَعُسْفَانَ وَفِیْ مِثْلِ مَابَیْنَ مَکَّۃَ وَجَدَّۃَ قَالَ مَالِکٌ وَ ذٰلِکَ اَرْبَعَۃُ بُرُدٍ۔ (رواہ فی الموطا)
مسافت قصر کی حد
اور حضرت امام مالک (رح) راوی ہیں کہ ان کو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ وہ (یعنی حضرت عبداللہ ابن عباس) اس مسافت کے دوران جو مکہ اور طائف مکہ اور عسفان مکہ اور جدہ کے درمیان ہے قصر نماز پڑھتے تھے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مسافت چار برید ہے۔ (موطا)
تشریح
چار برید سولہ فرسخ کے برابر ہیں، ایک فرسخ تین میل کو کہتے ہیں ایک میل (محد ثین کے ہاں) چار ہزار ہاتھ کی مسافت کو کہتے ہیں۔ اس طرح چار برید اڑتالیس میل کی مسافت ہوئی۔ اگر ایک منزل کو بارہ میل کی مسافت مانی جائے تو چار برید کی چار منزلیں ہوئیں۔ بظاہر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جن تین مسافتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ یکساں ہوں یعنی جتنی مسافت مکہ اور طائف کے درمیان ہو اتنی ہی مسافت مکہ اور عسفان کے درمیان ہو اسی طرح جتنی مسافتیں ان دونوں کی الگ الگ ہو اتنی ہی مسافت مکہ اور جدہ کے درمیان ہو۔ حالانکہ حقیقت میں یہ تینوں مسافت برابر نہیں ہیں۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے کہ حضرت امام مالک کے قول ذلک اربعۃ برید (یہ مسافت چار برید ہے) کا تعلق آخری مسافت یعنی مکہ اور جدہ کے درمیان کی مسافت ہے کہ مکہ اور جدہ کا درمیانی فاصلہ چار برید ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کے مذکورہ بالا فعل کے بارے علماء لکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں مسافت قصر کی کوئی حد بیان نہیں کی گئی ہے بلکہ مطلقاً سفر ذکر کیا گیا ہے قصر نماز کے باب کی احادیث پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جہاں جہاں بھی قصر نماز کا ذکر کیا گیا ہے اور آپ ﷺ کے قصر نماز پڑھنے کو بیان کیا گیا ہے ان تمام مواقع کی مسافت میں فرق ہے بعض زیادہ کم ہیں اور بعض مسافتیں زیادہ ہے آپ ﷺ کے بعد صحابہ، تابعین اور آئمہ و علماء امت کی آسانی کے لئے اپنے اپنے اجتہاد کے ذریعے اور غور و فکر کے ساتھ مسافت قصر کی حد مقرر کی ہے کہ اس حد سے کم مسافت میں نماز قصر نہیں ہوگی بلکہ پوری ہی پڑھی جائے گی اور اس مسافت یا اس سے زائد مسافت کی صورت میں قصر واجب ہوگا۔ چنانچہ امام شافعی (رح) نے ایک روایت کے مطابق ایک روز کی مسافت اور دوسری روایت کے مطابق دو روز کی مسافت کو مقرر کیا ہے لیکن ان کے مسلک کی کتاب حاوی میں سولہ فرسخ کا تعین کیا گیا ہے اور یہی مسلک حضرت امام مالک و حضرت امام احمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے مسافت قصر کے سلسلے میں تین منزلیں کی حد مقرر کی ہیں اور ایک منزل اتنی مسافت پر ہو کہ چھوٹے دنوں میں قافلہ صبح کو چل کردو پہر کے بعد منزل پر پہنچ جائے۔ حضرت امام ابویوسف دو روز اور تیسرے روز کے اکثر حصہ کی مسافت کو مسافت قصر قرار دیا ہے۔ اصحاب ظواہر (وہ جماعت جو صرف حدیث کے ظاہری الفاظ پر عمل پیرا ہوتی ہے) نے مطلقاً سفر کا اعتبار کیا ہے یعنی ان کے نزدیک مسافت قصر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے خواہ سفر لمبا ہو یا چھوٹا ہو ہر صورت میں نماز قصر ادا کی جائے گی۔ اس سلسلے میں اگر چاروں ائمہ کے مسلک کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ حقیقت اور نتیجے کے اعتبار سے سب کا یکساں ہی مسلک ہے کیونکہ حنفیہ کے نزدیک مشہور مسلک کے مطابق مسافت قصر (٤٨) میل مقرر ہے، حاوی قول کے مطابق شوافع کے ہاں سولہ فرسخ مقرر ہے اور سولہ فرسخ حساب کے اعتبار سے (٤٧) میل کے برابر ہے اسی طرح حضرت امام مالک و حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے لہٰذا چاروں مسلک میں مسافت قصر (٤٨) میل ہوئی۔ وا اللہ اعلم
Top