سنن الترمذی - حج کا بیان - حدیث نمبر 615
حدیث نمبر: 3311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا إِذْ قَدِمَتْ عِيرُ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ وَنَزَلَتِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سورت جمعہ کی تفسیر
جابر ؓ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ رسول اللہ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے، مدینہ کا (تجارتی) قافلہ آگیا، (یہ سن کر) صحابہ بھی (خطبہ چھوڑ کر) ادھر ہی لپک لیے، صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے جن میں ابوبکر و عمر ؓ بھی تھے، اسی موقع پر آیت «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وترکوک قائما» اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشہ نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے (الجمعۃ: ١١) ، نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٨ (٩٣٦)، والبیوع ٦ (٢٠٥٨)، و ١١ (٢٠٦٤)، وتفسیر الجمعة ١ (٤٨٩٩)، صحیح مسلم/الجمعة ١١ (٨٦٣) (تحفة الأشراف: ٢٢٩٢، و ٢٢٣٩) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3311
Top