مسند امام احمد - حضرت مقدام بن معدیکرب (رض) کی حدیثیں - حدیث نمبر 11537
حدیث نمبر: 3251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ:‏‏‏‏ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ أَعَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سورہ شوری کی تفسیر
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربی» اے نبی! کہہ دو میں تم سے (اپنی دعوت و تبلیغ کا) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو (الشوریٰ: ٢٣) ، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا: «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا: (تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، (آیت کا مفہوم ہے) اللہ نے کہا: میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا (بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس ؓ سے آئی ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب ١ (٣٤٩٧)، وتفسیر سورة الشوری ١ (٤٨١٨) (تحفة الأشراف: ٥٧٢٣) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3251
Top