مسند امام احمد - حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 4439
حدیث نمبر: 2746
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْعُطَاسُ مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ آهْ آهْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ آهْ آهْ إِذَا تَثَاءَبَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ فِي جَوْفِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند اور جمائی کو ناپسند کرتے ہیں
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: چھینکنا اللہ کی جانب سے ہے اور جمائی شیطان کی جانب سے ہے۔ جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیئے کہ جمائی آتے وقت اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے، اور جب جمائی لینے والا آہ، آہ کرتا ہے تو شیطان جمائی لینے والے کے پیٹ میں گھس کر ہنستا ہے۔ اور بیشک اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند کرتا ہے۔ تو (جان لو) کہ آدمی جب جمائی کے وقت آہ آہ کی آواز نکالتا ہے تو اس وقت شیطان اس کے پیٹ کے اندر گھس کر ہنستا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٨٢ (٢١٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٢ (٩٦٩)، وانظر مایاتي بعدہ (تحفة الأشراف: ١٣٠١٩) (حسن صحیح )
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، التعليق علی ابن خزيمة (921 - 922)، الإرواء (779)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2746
Top