مسند امام احمد - ایک صحابی (رض) کی روایت - حدیث نمبر 1618
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّحُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ رَدَدْتَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِي أَفْرَاسٌ وَأَعْبُدٌ وَأَنَا بِخَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَلَا تَفْعَلْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ مَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.
جس کسی کو خداوند قدوس بغیر مانگے عطا فرمائے
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے، تو عمر ؓ نے ان سے کہا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے ذمہ دار ہوتے ہو اور جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے لوٹا دیتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں (صحیح ہے) اس پر عمر ؓ نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں (مجھے کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔ تو عمر ؓ نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو کیونکہ میں بھی یہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو (لیکن اس کے باوجود) رسول اللہ مجھے عطیہ (بخشش) دیتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: اسے میرے بجائے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ فرماتے: اسے لے کر اپنے مال میں شامل کرلو، یا صدقہ کر دو، سنو! تمہارے پاس اس طرح کا جو بھی مال آئے جس کا نہ تم حرص رکھتے ہو اور نہ تم اس کے طلب گار ہو تو وہ مال لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو ۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ٢٦٠٥ (صحیح )
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2606
Top