مؤطا امام مالک - کتاب قصر الصلوة فی السفر - حدیث نمبر 301
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَة، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، ‏‏‏‏‏‏فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
میقات کے اند رجو لوگ رہتے ہوں ان سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو۔ یہ جگہیں یہاں کے لوگوں کے لیے میقات ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لیے بھی جو ان پر سے ہو کر گزریں، اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھنے والوں میں سے ہوں اور جو لوگ ان جگہوں کے اندر رہتے ہوں تو وہ اپنے گھر ہی سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے تلبیہ پکاریں گے ۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج ٩ (١٥٢٦)، ١١ (١٥٢٩)، صحیح مسلم/الحج ١٢ (١١٨١)، سنن ابی داود/الحج ٩ (١٧٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٨)، مسند احمد (١/٢٣٨) (صحیح )
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2658
Yahya related to me from Malik from Salih ibn Kaysan from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The prayer was prescribed as two rakas, both when settled and when travelling. Then the travelling prayer was kept as it was, and an increase was made in the prayer when settled. "
Top