عرفات میں لبیک کہنا
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس ؓ کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔ میں نے کہا: لوگ معاویہ ؓ سے ڈر رہے ہیں، (انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے) تو ابن عباس ؓ (یہ سن کر) اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور کہا: لبيك اللہم لبيك لبيك (افسوس کی بات ہے) علی ؓ کی عداوت میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٦٣٠) (صحیح الإسناد )
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3006
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "I was with Ibn Abbas in Arafat and he said: Why do I not hear the people reciting Talbiyah? I said: They are afraid of Muawiyah. So Ibn Abbas went out of his tent and said: "Labbaik Allahumma Labbaik, Labbaik! They are only forsaking the Sunnah out of hatred for Ali.
Top