سنن ابنِ ماجہ - اقامت نماز اور اس کا طریقہ - حدیث نمبر 3473
وعن جبير بن مطعم قال : مشيت أنا وعثمان بن عفان إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا : أعطيت بني المطلب من خمس خيبر وتركتنا ونحن بمنزلة واحدة منك ؟ فقال : إنما بنو هاشم وبنو المطلب واحد . قال جبير : ولم يقسم النبي صلى الله عليه و سلم لبني عبد شمس وبني نوفل شيئا . رواه البخاري
بخار دوزخ کی بھاپ سے ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کرلیا کرو۔
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ، پھر آپ ﷺ عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے (وہ بیمار تھا) اور یوں دعا فرمائی: اكشف الباس رب الناس إله الناس لوگوں کے رب، لوگوں کے معبود! (اے اللہ) تو اس بیماری کو دور فرما ۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ بدء الخلق ١٠ (٣٢٦٢)، صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢١٢)، سنن الترمذی/الطب ٢٥ (٢٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤/١٤١)، سنن الدارمی/الرقاق ٥٥ (٢٨١١) (صحیح )
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Prophet ﷺ say: Fever is from the heat of the Hell-fire, so cool it down with water. He entered upon a son of Ammar and said: Take away the harm, a Lord of mankind , a God of mankind."
Top