سنن النسائی - عقیقہ سے متعلق احادیث مبارکہ - حدیث نمبر 4225
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْالْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ،‏‏‏‏ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى.
عقیقہ کون سے دن کرنا چاہیے؟
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے ١ ؎ اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے ٢ ؎، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے ۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٧، ٢٨٣٨)، سنن الترمذی/الأضاحی ٢٣ (١٥٢٢ م)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١(٣١٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨١)، مسند احمد (٥/٧، ٨، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٢) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء عقیقہ کے فرض ہونے کے قائل ہیں، کیونکہ اس میں بچے کے عقیقہ کے بدلے گروی باقی رہ جانے کی بات ہے، اور گروی رہنے کا مطلب علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ جس لڑکے کا عقیقہ نہ کیا جائے اور وہ بلوغت سے پہلے مرجائے تو وہ قیامت کے دن اپنے ماں باپ کی سفارش (شفاعت) نہیں کرے گا، بعض علماء نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس طرح رہن رکھی ہوئی چیز کے بدلے کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ذبح (عقیقہ) ضروری ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ٢ ؎: اگر ساتویں دن عقیقہ کی استطاعت نہیں ہوسکی تو چودہویں دن کرے، اور اگر اس دن میں نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کرے، جیسا کہ عائشہ ؓ سے مستدرک حاکم میں ( ٤/٢٣٨ ) صحیح سند سے مروی ہے، اگر اکیسویں دن بھی نہ ہو سکے تو جو لوگ واجب قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک زندگی میں کسی دن بھی قضاء کرنا ہوگا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4220
It was narrated from Qatadah, from Al-Hasan, from Samurh bin Jundab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every boy is in pledge for his Aqiqah, so slaughter (the animal) for him on the seventh day, and shave his head, and a name.
Top