سنن النسائی - جہاد سے متعلقہ احادیث - حدیث نمبر 3089
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصْحَابًا لَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ سورة النساء آية 77.
جہاد کی فرضیت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو (جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے) لڑائی نہ کرو ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ (بجائے اس کے کہ خوش ہوتے) باز رہے (ہچکچائے، ڈرے) تب اللہ تعالیٰ نے آیت: ألم تر إلى الذين قيل لهم کفوا أيديكم وأقيموا الصلاة کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا (النساء: ٧٧ ) اخیر تک نازل فرمائی۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦١٧١) (صحیح الإسناد )
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3086
It was narrated from Ibn ‘Abbas that ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf and some his companions came to the Prophet ﷺ in Makkah and said: “Messenger of Allah ﷺ! We were respected when we were idolators and when we believed, we were humiliated.” He said: “I have been commanded to pardon, so do not fight.” Then, when Allah caused us to move to Al-Madinah, He commanded us to fight, but they refrained. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Have you not seen those who were told to hold back the hands (from fighting) and perform As-Salah” (Sahih)
Top