مسند امام احمد - حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ - حدیث نمبر 787
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا قَالَ ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ و قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً يَعْنِي بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
حضرت علی ؓ کی مرویات
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، پھر نبی ﷺ نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا فرمائی۔
Top