مسند امام احمد - حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 20576
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ قُلْتُ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ قَالَ فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي يَا أَبَا ذَرٍّ اسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلْإِنْسِ مِنْ شَيَاطِينَ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الصَّلَاةُ قَالَ خَيْرٌ مَوْضُوعٌ فَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ وَمَنْ شَاءَ أَقَلَّ قَالَ قُلْتُ فَمَا الصِّيَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرْضٌ مُجْزِئٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الصَّدَقَةُ قَالَ أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ قَالَ قُلْتُ أَيُّهَا أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ قُلْتُ فَأَيُّ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ أَعْظَمُ قَالَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ قُلْتُ فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ قَالَ آدَمُ قُلْتُ أَوَنَبِيٌّ كَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ قُلْتُ فَكَمْ الْمُرْسَلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا
حضرت ابوذرغفاری ؓ کی مرویات
حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر ؓ کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چناچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ نماز کا کیا حکم ہے؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چاہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کرلے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ روزے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ صدقہ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ کیا وہ نبی تھے؟ فرمایا ہاں، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا: میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ رسول کتنے آئے؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی؟ فرمایا آیت الکرسی۔
Top