مسند امام احمد - حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 1344
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ تَسْعَى حَتَّى إِذَا كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى قَالَ فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرَاهُمْ فَقَالَ الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ قَالَ فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى قَالَ فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي وَكَانَتْ امْرَأَةً جَلْدَةً قَالَتْ إِلَيْكَ لَا أَرْضَ لَكَ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزَمَ عَلَيْكِ قَالَ فَوَقَفَتْ وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَيْنِ مَعَهَا فَقَالَتْ هَذَانِ ثَوْبَانِ جِئْتُ بِهِمَا لِأَخِي حَمْزَةَ فَقَدْ بَلَغَنِي مَقْتَلُهُ فَكَفِّنُوهُ فِيهِمَا قَالَ فَجِئْنَا بِالثَّوْبَيْنِ لِنُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ فَإِذَا إِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَتِيلٌ قَدْ فُعِلَ بِهِ كَمَا فُعِلَ بِحَمْزَةَ قَالَ فَوَجَدْنَا غَضَاضَةً وَحَيَاءً أَنْ نُكَفِّنَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ لَا كَفَنَ لَهُ فَقُلْنَا لِحَمْزَةَ ثَوْبٌ وَلِلْأَنْصَارِيِّ ثَوْبٌ فَقَدَرْنَاهُمَا فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَكْبَرَ مِنْ الْآخَرِ فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي صَارَ لَهُ
حضرت زبیربن عوام ؓ کی مرویات
حضرت زبیر ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن اختتام پر ایک عورت سامنے سے بڑی تیزی کے ساتھ آتی ہوئی دکھائی دی، قریب تھا کہ وہ شہداء کی لاشیں دیکھ لیتی، نبی ﷺ اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ خاتون انہیں دیکھ سکے، اس لئے فرمایا کہ اس عورت کو روکو، اس عورت کو روکو، حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ میری والدہ حضرت صفیہ ؓ ہیں، چناچہ میں ان کی طرف دوڑتا ہوا گیا اور شہداء کی لاشوں تک ان کے پہنچنے سے قبل ہی میں نے انہیں جالیا۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر میرے سینے پر دو ہتڑ مار کر مجھے پیچھے کو دھکیل دیا، وہ ایک مضبوط خاتون تھیں اور کہنے لگیں کہ پرے ہٹو، میں تم سے نہیں بولتی، میں نے عرض کیا کہ نبی ﷺ نے آپ کو قسم دلائی ہے کہ ان لاشوں کو مت دیکھیں، یہ سنتے ہی وہ رک گئیں اور اپنے پاس موجود دو کپڑے نکال کر فرمایا یہ دو کپڑے ہیں جو میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لائی ہوں، کیونکہ مجھے ان کی شہادت کی خبر مل چکی ہے، تم انہیں ان کپڑوں میں کفن دے دینا۔ جب ہم حضرت حمزہ ؓ کو ان دو کپڑوں میں کفن دینے لگے تو دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک انصاری شہید ہوئے پڑے ہیں، ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا تھا جو حضرت حمزہ ؓ کے ساتھ کیا گیا تھا، ہمیں اس بات پر شرم محسوس ہوئی کہ حضرت حمزہ ؓ کو دو کپڑوں میں کفن دے دیں اور اس انصاری کو ایک کپڑا بھی میسر نہ ہو، اس لئے ہم نے یہ طے کیا کہ ایک کپڑے میں حضرت حمزہ ؓ کو اور دوسرے میں اس انصاری صحابی ؓ کو کفن دیں گے، اندازہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں حضرات میں سے ایک زیادہ لمبے قد کا تھا، ہم نے قرعہ اندازی کی اور جس کے نام جو کپڑا نکل آیا اسے اسی کپڑے میں دفنا دیا۔
Top