مسند امام احمد - حضرت علی (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 586
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت علی ؓ کی مرویات
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی! تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ (دراصل نبی ﷺ اور حضرت امیرحمزہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)
Top