مسند امام احمد - حضرت ابورمثہ تیمی (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 16846
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رَدْعَ حِنَّاءٍ وَرَأَيْتُ عَلَى كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ قَالَ أَبِي إِنِّي طَبِيبٌ أَلَا أَبُطُّهَا لَكَ قَالَ طَيَّبَهَا الَّذِي خَلَقَهَا قَالَ وَقَالَ لِأَبِي هَذَا ابْنُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْك وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ
حضرت ابورمثہ تیمی ؓ کی مرویات
حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے نبی ﷺ کے سر پر مہندی کا اثر دیکھا اور کندھے پر کبوتری کے انڈے کے برابر مہر نبوت دیکھی تو میرے والد کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ کیا میں آپ کا علاج نہ کروں کہ میں طبیب ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کا طبیب اللہ ہے، جس نے اسے بنایا ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ تمہارا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی ﷺ نے فرمایا یاد رکھو! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔
Top