مسند امام احمد - حضرت ابورمثہ (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 6811
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمُونَ فِي دَمِ الْعَمْدِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ ثُمَّ قَالَ فَنَظَرَ ثُمَّ قَالَ مَنْ هَذَا مَعَكَ يَا أَبَا رِمْثَةَ فَقُلْتُ ابْنِي قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي نُغْضِ كَتِفِهِ مِثْلُ بَعْرَةِ الْبَعِيرِ أَوْ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ فَقُلْتُ أَلَا أُدَاوِيكَ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ نُطَبِّبُ فَقَالَ يُدَاوِيهَا الَّذِي وَضَعَهَا
حضرت ابورمثہ ؓ کی مرویات
حضرت ابورمثہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ قتل کا ایک مقدمہ لے کر آئے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا دینے والا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور قریبی رشتہ داروں کو دیا کرو پھر نبی کریم ﷺ نے دیکھ کر فرمایا ابورمثہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرا بیٹا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی جنایت کے تم اور تمہاری جنایت کا یہ ذمہ دار نہیں پھر میں نے غور کیا تو نبی کریم ﷺ کے کندھے کی باریک ہڈی میں اونٹ کی مینگنی یا کبوتری کے انڈے کے برابر ابھرا ہوا گوشت نظر آیا میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا میں آپ کا علاج نہ کردوں کیونکہ ہمارا خاندان اطباء کا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا علاج وہی کرے گا جس نے اسے لگایا ہے۔
Top