مسند امام احمد - حضرت ابوزید طلحہ بن سہل کی حدیثیں۔ - حدیث نمبر 15768
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالَ مَا نُرَاهُ إِلَّا يَنْطَلِقُ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمْ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَتَقْمِئَةً وَحَسْرَةً وَنَدَامَةً قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ شَيْبَانَ وَلَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَتَقْمِئَةً
حضرت ابوزید طلحہ بن سہل کی حدیثیں۔
حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی ﷺ نے حکم دیا کہ تو چوبیس سردران قریش کو بدر کے ایک گندے اور بدبودار کنویں میں پھینک دیا نبی ﷺ کی یہ عادت مبارک تھی جب کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو وہاں تین دن ٹھہرنے کو پسند فرماتے چناچہ غزوہ بدر کے تیسرے دن نبی ﷺ ان کی طرف چلے اور ہم بھی ساتھ چلے ہمارا خیال تھا کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لئے جا رہے ہیں لیکن نبی ﷺ کنویں کی منڈیر پر جا کر کھڑے ہوئے اور ان کے نام لے کر انہیں آوازیں دینے لگے کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے حضرت عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ کیا آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہو جن میں روح سرے سے نہیں ہے نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے جو میں ان سے کہہ رہا ہوں وہ تم اسے زیادہ انہیں سن رہے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top