مسند امام احمد - حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 6628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ وَتَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مَنْ قُتِلَ عَلَى مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی مرویات
حضرت ابن عمرو ؓ اور عنبسہ بن ابی سفیان کے درمیان کچھ رنجش تھی نوبت لڑائی تک جا پہنچی حضرت خالد بن عاص ؓ ابن عمرو ؓ کے پاس پہنچے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی وہ کہنے لگے کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا ماراجائے وہ شہید ہے؟
Top