مسند امام احمد - عبداللہ بن عباس کی مرویات - حدیث نمبر 2142
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ لَمَّا أَسْلَمَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَائِضِ الْإِسْلَامِ مِنْ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا فَعَدَّ عَلَيْهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِنَّ ثُمَّ الزَّكَاةَ ثُمَّ صِيَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ حَجَّ الْبَيْتِ ثُمَّ أَعْلَمَهُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَسَأَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ضمام بن ثعلبہ جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا جب اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو نبی ﷺ سے فرائض اسلام مثلا نماز وغیرہ کے متعلق سوالات کئے، نبی ﷺ نے ان کے سامنے پانچ نمازیں ذکر کیں اور ان پر کچھ اضافہ نہ فرمایا: پھر زکوۃ، روزہ اور حج کا ذکر فرمایا: پھر وہ چیزیں بتائیں جو اللہ نے ان پر حرام قرار دے رکھی ہیں، نبی ﷺ جب اس سے فارغ ہوئے تو ضمام کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے مجھے جو حکم دیا ہے میں انشاء اللہ اس کے مطابق کروں گا اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، نبی ﷺ نے فرمایا اگر اس دو چوٹیوں والے اپنی یہ بات سچ کر دکھائی تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔
Top