مسند امام احمد - حضرت ابوروح کلاعی کی حدیثیں۔ - حدیث نمبر 10630
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعَيَّ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔
Top