مسند امام احمد - ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 23370
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا فَقُلْتُ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ فَسَكَتَ قَالَتْ ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ قَالَتْ فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ وَلَا كَرَامَةَ يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی مرویات
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے پاس تھی، نبی ﷺ فرمانے لگے کہ عائشہ! اگر ہمارے پاس کوئی ہوتا جو ہم سے باتیں ہی کرتا (تو وقت گذر جاتا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کسی کو بھیج کر حضرت ابوبکر ؓ کو بلا لوں؟ نبی ﷺ خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد پھر وہی بات دہرائی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کسی کو بھیج کر حضرت عمر ؓ کو بلا لوں؟ نبی ﷺ خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ نے اپنے ایک خادم کو بلا کر اس کے کان میں سرگوشی کی، وہ چلا گیا، کچھ ہی دیر بعد حضرت عثمان ؓ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، وہ اندر آئے تو نبی ﷺ کافی دیر تک ان سے باتیں کرتے رہے، پھر فرمایا عثمان! اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین چاہیں کہ تم اسے اتار دو تو تم اسے اتار نہ دینا، یہ کوئی عزت والی بات نہ ہوگی، یہ جملہ نبی ﷺ نے ان سے دو تین مرتبہ فرمایا۔
Top