سنن الترمذی - کھانے کا بیان - حدیث نمبر 3474
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ وَقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَی مَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَی عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا کَافِرِينَ يَقُولُونَ الْکَوَاکِبُ وَبِالْکَوَاکِبِ
جس نے کہا بارش ستاروں کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے کفر کا بیان
حرملہ بن یحیی، عمرو بن سواد عامری، محمد بن سلمہ، مرادی، عبداللہ بن وہب، یونس ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، بن عتبہ، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اپنے پروردگار کے اس فرمان پر غور نہیں کرتے کہ میں اپنے بندوں پر کوئی نعمت نازل کرتا ہوں مگر اس کے نتیجے میں ایک گروہ کفران نعمت کرنے والوں کا ہوتا ہے اور وہ یہ کہنے والا گروہ ہوتا ہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے ایسا ہوا۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: Dont you know what your Lord said? He observed: I have never endowed My bondsmen with a favor, but a section amongst them disbelieved it and said: Stars, it was due to the stars.
Top