سنن النسائی - قبلہ کے متعلق احادیث - حدیث نمبر 5601
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَ عَبَّاسٌ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا بُکَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ کَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ فَجَائَهُ ابْنُهُ عُمَرُ فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاکِبِ فَنَزَلَ فَقَالَ لَهُ أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِکَ وَغَنَمِکَ وَتَرَکْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْکَ بَيْنَهُمْ فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ فَقَالَ اسْکُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عباس بن عبد العظیم، اسحاق، عباس، اسحاق، ابوبکر، بکیر بن مسمار، حضرت عامر بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اپنے اونٹوں میں (موجود) تھے کہ اسی دوران ان کا بیٹا عمر آیا تو جب حضرت سعد ؓ نے اسے دیکھا تو فرمایا میں سوار کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں تو جب وہ اترا تو حضرت سعد ؓ سے کہنے لگا کہ کیا آپ اونٹوں اور بکریوں میں رہنے لگے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے اور وہ ملک کی خاطر جھگڑا رہے ہیں تو حضرت سعد ؓ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: خاموش ہوجا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے جو پرہیزگار اور غنی ہے اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھا ہے۔
It is reported on the authority of Amir bin Sad that Sad bin Abi Waqqas was in the fold of his camels that his son Umar came to him. When Sad saw him he said: I seek refuge with Allah from the mischief of this rider. And as he got down he said to him: You are busy with your camels and your sheep and you have abandoned people who are contending with one another for kingdom. Sad struck his chest and said: Keep quiet. I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah loves the servant who is God-conscious and is free from want and is hidden (from the view of people).
Top