سنن ابنِ ماجہ - فتنوں کا بیان - حدیث نمبر 7271
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فَقُلْتُ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَائٌ فَقَالَ ذَاکَ الرَّجُلُ کَلَّا وَاللَّهِ قُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ کَلَّا وَاللَّهِ قُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ کَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ قُلْتُ بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُکَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي ثُمَّ قُلْتُ مَا هَذَا الْغَضَبُ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ
سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن حاتم، معاذ بن معاذ ابن عون محمد حضرت جندب سے روایت ہے کہ جرعہ واقعہ کے دن آیا تھا جرعہ کوفہ میں ایک جگہ ہے جہاں کوفہ والے حضرت سعید بن عاص ؓ سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے تھے جب انہیں حضرت عثمان نے کوفہ کا حاکم بنا کر بھیجا تھا وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا تو میں نے کہا آج کے دن تو یہاں بہت خونریزی ہوگی تو اس آدمی نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا اللہ کی قسم کیوں نہ ہوگی اس نے کہا اللہ کی قسم ہرگز نہیں میں نے کہا اللہ کی قسم نہ ہوگی اس نے کہا اللہ کی قسم ہرگز نہیں کیونکہ رسول اللہ کی حدیث ہے جو آپ ﷺ نے مجھے بیان کی تھی میں نے کہا تو میرے لئے برا ہم نشین ہے آج سے اس لئے کہ تو سنتا ہے میں تیری مخالفت کر رہا ہوں حالانکہ تو بھی رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں حدیث سن چکا ہے مگر مخالفت کرنے سے تو نے مجھے منع کیوں نہیں کیا پھر میں نے کہا یہ کیا غضب ہے الغرض میں نے اس کی طرف متوجہ ہو کر اس سے حدیث معلوم کرنا چاہی تو وہ آدمی حضرت حذیفہ ؓ تھے۔
Jundub reported: I came on the day of Jaraa that a person was (found) sitting. I said: They would shed their blood today. That person said: By Allah, not at all. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it, and I have heard a hadith of Allahs Messenger ﷺ which I am narrating to you in this connection. I said: You are a bad seat fellow. I have been opposing you since morning and you are listening to me in spite of the fact that you have heard a hadith from Allahs Apostle ﷺ (contrary to my statement). I myself felt that there was no use of this annoyance. (He could tell me earlier that it was a hadith of the Holy Prophet ﷺ (may peace be upon him], and I would not have opposed him at all.) I turned my face toward him and asked him and he was Hadrat Hudhaifa.
Top